براہ راست مواد پر جائیں (Skip to main content)
بدھ 26 اگست 2026ء|
Daily Wateen - روزنامہ وطین
پاکستان· اسلام آباد ایڈیشن
·

پنجاب میں سیاحت: تفریح سے معیشت تک ترقی کا نیا سفر

پنجاب گوادر پاکستان کی زراعت، صنعتی اور تجارتی مرکز کہا جاتا ہے تو جے پناہ ہوگا، لیکن اس وسعت اور وزیرصوبے کی معاشی صلاحیت صرف زراعت، صنعت تک محدود نہیں ہے۔

رپورٹ: سٹاف رپورٹر·منگل، 8 ستمبر، 2026·1 مشاہدات
شیئر:واٹس ایپ·فیس بک·X·
پنجاب میں سیاحت: تفریح سے معیشت تک ترقی کا نیا سفر
ماخذ: Daily Wateen Islamabad 08 09 2026.pdf

پنجاب گوادر پاکستان کی زراعت، صنعتی اور تجارتی مرکز کہا جاتا ہے تو جے پناہ ہوگا، لیکن اس وسعت اور وزیرصوبے کی معاشی صلاحیت صرف زراعت، صنعت تک محدود نہیں ہے۔ پنجاب کے پہاڑ، جھیلیں، جنگلات، تاریخی ورثے اور تہذیبی آثار، قلعے، عجائب گھر اور ثقافتی مراکز ایسی دولت ہیں جو طویل عرصے سے موجود ہونے کے باوجود اپنی معاشی طاقت کے اعتبار سے پوری طرح بروئے کار نہیں لائی جا سکی۔ اب موصوف حکومت کی جانب سے کوشل تفریحی سرگرمی کے بجائے ایک باقاعدہ معاشی شعبے کے طور پر ترقی دینے کے لیے بڑے پیمانے پر منصوبہ بندی اس سمت میں ایک اہم پیش رفت قرار دی جا سکتی ہے۔ پنجاب حکومت کا 2026ء تک کی پیش رفت پرچی رپورٹ اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ صوبے میں سیاسی شعبے کو جدید فنڈیوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے 91 ترقاقی منصوبے زیر تکمیل ہیں، جن کا مجموعی مالی حجم قریباً 53 ارب روپے ہے۔ بظاہر یہ اعداد و شمار محض سرکاری سرمایہ کاری کا اظہار محسوس ہوتے ہیں، لیکن ان کے اندر ایک ترسیعی معاشی تصویر پوشیدہ ہے۔ اگر چہ اس کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے، یہی مرتض آباد ہوتی ہے، ہوٹل ریسٹورنٹ، ٹرانسپورٹ، دستکاری، مقامی مصنوعات اور تفریحی سرگرمیوں پر فروغ پاتی ہیں تو اس کے اثرات براہ راست سرکاری منصوبوں سے کہیں آگے تک پہنچتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاحت کو دنیا بھر میں معیشت کا اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔ ایک سیاح صرف کسی مقام کو دیکھنے نہیں آتا بلکہ سفر پر رہائش اور خوراک، ٹریول اور تفریح اور مقامی خدمات خرچ کرتا ہے۔ یوں سیاحت کے شعبے میں ہونے والی سرمایہ کاری کی دوسرے شعبوں کے لیے بھی معاشی سرگرمی پیدا کرتی ہے۔ پنجاب میں اس تصور کو عملی شکل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ صوبے کے 172 سیاتی اور ثقافتی مرکز اور تاریخی مقامات بندی اور با طور مربوط سیاستی سرکس کا قیام اس بات کی علامت ہے کہ اب سیاحت کو محض سرگرم کے بجائے ایک مربوط معاشی دھارے میں علوم پر روکا جا رہا ہے۔ پنجاب کے سیاتی نقشے میں پہاڑی علاقوں کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ گرچہ اگر چہ پہلے ملک کے سو معروف سیاستی مرکز میں شمار ہوتے ہیں، لیکن مری، کوٹلی، ستیاں، ،کلر کہار، وادی سون سکیسر، کوہ، پہاڑ لگنا نا نگہ اور پوشیدہ مقامات بھی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان علاقوں کو بنیادی سہولیات، بہتر سڑکوں راستوں، معیاری رہائش، صاف ستھرا ماحول، نئی مواصلاتی نظام اور مناسب تشہیر سے جوڑا جائے۔ کوٹلی ستیاں جغرافیا کے لیے 19، 3 روپیز کے منھوٹوں اور بینڈ رنگ ایسی مسل کی ایک اہم کڑی ہے۔ جہم کے پونڈ، ایڈونچر ٹریک، پیرا گلائیڈنگ اور واٹر سپورٹس جیسے صوبے کے بنیادی سیاتی روایت کو عملی شکل دینے کیچھیووں سے جوڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم کسی بھی سیاتی منصوبے کی کامیابی صرف تفریحات سے ممکن نہیں۔ دنیا بھر میں سیاح اب محض خوبصورت مناظر نہیں، بلکہ مکمل تجسسچر نا چاہتے ہیں۔ اس کے شان آغاز، درست معلومات محفوظ نقل و حرکت ماحول، معیاری خوراک، جدید مواصلاتی سہولیات اور فوری رہنمائی درکار ہوتی ہے۔ اس تناظر میں پنجاب حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو سیاحت کے ساتھ جوڑنا قابل توجہ ہے۔ ڈیجیٹلیکسٹ، پنجاب ایپ میں جی آئی ایس میپنگ، مصنوعی ذہانت حقیقت پر مبنی ہریات، آن لائن بکنگ اور لاسٹنگ جیسی سہولیات کی خوشبویت اس بات کا اعتراف ہے کہ آج کی سیاحت کا میدان موبائل فون اور ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم سے لگ نہیں، ڈیجیٹل سیاحت کا ایک بڑا فائدہ یہی ہے کہ اس سے پنجاب کے بستا کم معروف علاقوں کو قومی اور عالمی سطح پر متعارف کرایا جا سکتا ہے۔ ایک خوبصورت تحلیل، تاریخی گلی وں، قدم بہ زاڑ راہیوں پر مقام آگاہی یا ڈیجیٹل نقشے پر نمایاں ہو جائے تو وہان سیاستی کی آمد میں اضافہ ممکن ہے۔ یوں مقامی آبادی کے لیے کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ ڈیجیٹلیکسٹ کے ساتھ بھی معیاری بھی فراہم کی جائیں، کیونکہ سیاح کو ان کی ذاتی تصویر سے خورد و خوراک کرنا بلکہ چکا چکا ناپالیسی بھی مطلوبہ میسر نہیں، طویل مدت میں سیاحت کے فروغ کے بجائے اس کی ساکھ کا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ پنجاب کے خطے میں ثقافتی سیاحت کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ٹیکسلا، ہڑپہ، قلعہ روہتاس جیسے مقامات صرف تاریخی نشانیاں نہیں بلکہ برصغیر کی تہذیبی تاریخ کے زندہ ابواب ہیں۔ ٹیکسلا اور ہڑپہ جیسی تہذیبیں ہمیں پاک داس کی ثقافت و تعارف کا ذریعہ بنتی ہیں۔ اگر ان مقامات کو جدید دور میں تحقیق، رہنمائی، ڈیجیٹل ڈارسٹوں، دستکاری، مقامی خوراک اور ثقافتی تقریبات کے ساتھ مربوط کیا جائے تو ثقافتی ورثہ معاشی سرگرمی میں تبدیل ہو سکتا ہے، بلکہ اس کے پاس کی تاریخی شناخت حشتر ہو۔

روزنامہ وطین (Daily Wateen) · اشاعت: اسلام آباد، لاہور، وہاڑی
ABC Certified

متعلقہ خبریں (پاکستان)

مزید پاکستان خبریں →